visa on done basis

We offers Visa on Done Basis (ONLY BY LEGAL WAY) Visit Visa, Business Visa, Work Permit, Temporary Residence Permit. Schengen Visa on Done Basis for Cyprus, Poland, Denmark, Norway, finland, Portugal, Netherland, Latvia & Lithuania. Before proceeding we will need to know Age, Study, Job/Business, Travel History then we can make a deciosn for successful Visa. We can also help you to get Registered visa invitation letter from different countries by our Partner companies. Please note that we offer only registered invitation letters, that will be issued my immigration office Or relased by Chamber of commerce on company behalf. In this concern please call us for details. As we get lots on inquiries daily regarding visa application questions so i am going to share some importent information here for applying visa.

السلام علیکم! شینجن اور یورپ جانے کے خواہشمند بھائیوں کے لئے اہم معلومات: سب سے پہلا کام یہ کرنا ہے کہ آپ کا پروفائل مضبوط ہونا چاہئے۔ بیروزگار اور نکمے بندے کو کبھی بھی وزٹ یا ٹورسٹ ویزا نہیں ملتا۔ سب سے پہلے دو چیزوں کو مدنظر رکھیں۔ آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ آپ کے جانے کی وجہ کیا ہے اور دوسرے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ آپ واپس ضرور آئیں گے۔ جب انہیں آپ یہ دونوں چیزیں ثابت کر دیتے ہیں تو وہ آپ کو ویزا دے دیتے ہیں۔ جہاں تک وہاں جا کر ادھر ہی رہ جانے والی بات ہے تو گوروں کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ اکثریت لوگ واپس نہیں آتے وہ اس کے باوجود ویزا دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کو سستی لیبر چاہئے ہوتی ہے وہ جان بوجھ کر ایسے لوگوں کو ویزا دیتے ہیں جو قابل اور محنت کش ہوتے ہیں۔ اس بات کا اندازہ وہ اس چیز سے لگاتے ہیں کہ جو بندہ یہاں پر کام کر رہا ہے نوکری کر رہا ہے یا کاروبار کر رہا ہے اور پیسہ کما کر اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈال رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اگر وزٹ ختم ہونے پر واپس نہ بھی آیا تو ان کے ملک کی ترقی کے لئے کام کرے گا۔ کوئی ملازمت کر کے یا کاروبار کر کے اپنا مثبت کردار ادا کر لے گا۔ ویزا اپلائی کرنے سے پہلے مندرجہ ذیل کاغذات تیار رکھیں۔

 

اگر ان کی فہرست میں نہیں بھی ہیں تو بھی تیار رکھیں، وہ کسی بھی وقت کوئی بھی کاغذ آپ سے مانگ سکتے ہیں۔ کور لیٹر: ویزا فارم کے ساتھ ایک کور لیٹر ضرور شامل کریں۔ اس کور لیٹر میں آپ نے تین چیزیں شامل کرنی ہیں۔ اپنا مختصر پروفائل جس میں آپ کا تعارف ہو، آپ کے کام کی کچھ تفصیلات ہوں اور آپ کے سیاحت کے شوق کو ظاہر کیا گیا ہو۔ کور لیٹر میں آپ تفصیلا لکھیں کہ آپ نے مذکورہ ملک کی کون کون سی جگہیں دیکھنی ہیں اور یہ جگہیں آپ کو کس وجہ سے اچھی لگتی ہیں۔ اتنی تفصیل سے لکھیں کہ ویزا آفیسر کو یہ یقین ہو جائے کہ بندہ ترسا ہوا ہے ان مناظر یا جگہوں کو دیکھنے کے لئے۔ پاسپورٹ: آپ کا پاسپورٹ کم از کم چھ ماہ کے لئے کارآمد ہونا چاہئے۔ اگر آپ کے پاسپورٹ پر دو چار آسان ویزا والے ممالک کا ویزا، انٹری اور ایگزٹ لگے ہیں تو پھر ویزا کے چانسز بہت حد تک بڑھ جاتے ہیں۔

 

نوکری: آپ اگر نوکری کر رہے ہیں تو اپنے ادارے سے ایک سرٹیفکیٹ حاصل کریں جس میں آپ کا نام، ولدیت، پاسپورٹ نمبر، جس عہدے پر کام کر رہے ہیں، جتنے عرصے سے کام کر رہے ہیں، آپ کی تنخواہ کتنی ہے یہ ساری چیزیں لکھی ہونی چاہئیں۔ بینک سٹیٹمنٹ برائے ملازمت پیشہ افراد: اگر آپ نوکری کر رہے ہیں توآپ کی تنخواہ آپ کے بینک اکاؤنٹ میں جانی چاہئے۔ آپ اسی اکاؤنٹ کی بینک سٹیٹمنٹ ویزا فارم کے ساتھ لگائیں گے۔ یہ چیز ذہن میں رکھنی ہے کہ آپ کی تنخواہ سے بینک سٹیٹمنٹ بہت زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ مثلا اگر آپ دس سال سے ملازمت کر رہے ہیں اور آپ کی موجودہ تنخواہ پچاس ہزار روپے ہے توآٹھ دس لاکھ کی بینک سٹیٹمنٹ لگائیں۔ اگر آپ بیس تیس لاکھ کی سٹیٹمنٹ لگائیں گے تو ویزا آفیسر کو یہ شک پڑ سکتا ہے کہ آپ نے یہ رقم اپنے پاس سے ڈال کر ویزا کےحصول کے لئے بینک سٹیٹمنٹ بنائی ہے۔ اگر رقم بہت زیادہ ہو جاتی ہے مثلاکروڑوں میں ہوتی ہے تو پھر آپ کا ویزا لگنا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ پھر یہ شک پڑ جاتا ہے کہ بندے نے کوئی کرپشن کی ہے جس کی وجہ سے ملک سے بھاگ رہا ہے۔ اس لئے کوشش یہ کریں کہ بینک سٹیٹمنٹ کواپنی آمدنی کے حساب سے بنائیں۔ اگر آپ کی کوئی جائیداد ہے جو کرایہ پر ہے اس کی آمدنی آپ دکھانا چاہتے ہیں تو لازمی ہے کہ آپ اس کے کاغذات بھی ساتھ لگائیں۔

 

کاروبار: اگر آپ نے اپنا کاروبار دکھانا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کا کاروبار کم از کم ایک سال سے ایف بی آر اور چیمبر آف کامرس کے ساتھ رجسٹر ہو۔ کاروبار دکھا کر ویزا لینے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے کاروباری ادارے کے لیٹر ہیڈ پر مذکورہ بالا کور لیٹر لکھیں اور اس پر دستخط و مہر لگائیں۔ کاروبار کی صورت میں کور لیٹر کے ساتھ اپنا وزٹنگ کارڈ اور چیمبر آف کامرس کے سرٹیفکیٹ اور ممبرشپ کارڈ کی فوٹو کاپی لازمی منسلک کریں۔ کاروباری کی حیثیت سے کور لیٹر میں آپ اپنے کاروبار کی تفصیلات لکھیں گے مثلا آپ کس چیز کا کاروبار کرتے ہیں، کون کون سے اداروں کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، آپ کے ساتھ کتنے ملازمین کام کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کاروباری بینک سٹیٹمنٹ: اگر آپ کاروبارظاہر کر کے ویزا لے رہے ہیں تو بینک سٹیٹمنٹ زیادہ بھی ظاہر کر سکتے ہیں لیکن بہت زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ آپ کے کاروبار کی نوعیت کے حساب سے ہونی چاہئے۔ بینک اکاؤنٹ آپ کی کمپنی کے نام پرہو تو اس کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

 

کیریکٹر سرٹیفکیٹ: کسی طرح کے مجرمانہ ریکارڈ کے حامل شخص کو شینجن یا یورپ میں کہیں بھی ویزا نہیں ملتا۔ کیریکٹر سرٹیفکیٹ کے حصول کے لئے متعلقہ ڈی پی او یا ایس ایس پی آفس سے رابطہ کریں۔ وہ ایک فارم دیں گے۔ اس فارم کے ساتھ پر آپ کی تصویر لگے گی اور ساتھ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی کاپی منسلک کرنی ہو گی۔ اگر آپ سرکاری ملازم ہیں تو اس کے ساتھ محکمے یا ادارے کی جانب سے ایک این او سی منسلک کرنا ہو گا ۔ اس کے بعد اپنے محلے کے کونسلر یا کسی سرکاری گزیٹڈ آفیسر سے تصدیق کروائیں جس میں وہ لکھے گا کہ وہ آپ کو کتنے عرصے سے جانتا ہے اور آپ کا کیریکٹر صاف ہے۔ اس کے بعد آپ اپنے متعلقہ تھانے کے بیٹ افسر سے رابطہ کریں گے۔ وہ آپ کے ریکارڈ کے حوالے سے تصدیق کرے گا اور ایس ایچ او کے دستخط ہونے کے بعد فارم دوبارہ ڈی پی او یا ایس ایس پی آفس چلا جائے گا جہاں سے سرٹیفکیٹ جاری ہو گا۔

 

میڈیکل سرٹیفکیٹ: کسی بھی ڈسٹرکٹ ہسپتال سے میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوا کر تیار رکھیں۔ ویسے یہ سرٹیفکیٹ نہیں مانگتے لیکن کسی بھی وقت مانگ سکتےہیں۔ ایسی صورتحال میں آپ کا وقت بچے گا۔ میڈیکل سرٹیفکیٹ میں یہ لکھا ہونا چاہئے کہ آپ ذہنی اور جسمانی طور پر فٹ ہیں۔ ایڈز سرٹیفکیٹ: کوئی بھی ملک ایڈز کے مریض کو اپنے ملک میں ویزا نہیں دیتا اس لئے متعلقہ ہسپتال سے ایڈز سے پاک ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کر کے اپنے پاس رکھیں ایمبیسی کسی وقت بھی یہ سرٹیفکیٹ آپ سے مانگ سکتی ہے اور یہ یاد رکھیں کہ ضرور مانگے گی۔

 

پولیو سرٹیفکیٹ: پاکستان میں پولیو کی بیماری بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے پولیو سے متاثرہ یا جن کے متاثر ہونے کا خدشہ ہو انہیں کوئی بھی ایمبیسی ویزا نہیں دیتی اس لئے اپنے قریبی پولیو سنٹر یا سرکاری ہسپتال سے پولیو کے قطرے پینے کا سرٹیفکیٹ ضرور حاصل کر لیں اور اس کی کاپی ویزا فارم کے ساتھ منسلک کریں۔ انکم ٹیکس سرٹیفکیٹ: آپ نوکری کرتے ہیں یا کاروبار کرتے ہیں آپ کی ایک آمدنی ہے اور اس پر انکم ٹیکس ضرور دینا ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس بہت ضروری چیز ہے اور جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے انہیں مجرم تصور کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ٹیکس سرٹیفکیٹ نہیں ہے تو آپ یہ سمجھ لیں کہ آپ کو ایک مجرم سمجھ کر آپ کا ویزا ریجیکٹ ہو جائے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ کم از کم دو سال کا انکم ٹیکس سرٹیفکیٹ آپ کے پاس ہونا چاہئے۔

 

فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ: نادار سے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ضرور حاصل کر لیں اور اپنے پاس رکھیں۔ اکثر ایمبیسیاں ایف آر سی ضرور مانگتی ہیں۔ اس کی فوٹو کاپی اپنی فائل میں ضرور منسلک کریں۔ نکاح نامہ یا میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ: اگر آپ شادی شدہ ہیں اور آپ کے بال بچے موجود ہیں تو آپ کے واپس آنے کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں اس لئے آپ انے نکاح نامہ یا میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کو تیار رکھیں، بہتر ہے کہ فائل میں پہلے سے لگا لیں اس سے وقت کی بچت ہو گی۔

 

تصویری: تصویروں کے حوالے سے ہر ایمبیسی کے مختلف قوائد ہیں۔ ایمبیسی کی ویب سائٹ یا ویزا ڈیل کرنے والے ادارے سے معلومات لے لیں کہ کس طرح کی تصوریں چاہئیں اور کتنی چاہئیں۔ اس کے مطابق تصویری تیار کر کے فائل میں ایک لفافے میں ڈال کر منسلک کر دیں۔ ویزا فارم: ویزا فارم احتیاط سے بھریں، کسی قسم کی غلطی ویزا ریجیکشن کا سبب بھی بن سکتی ہے اور اگر ویزا مل جائے آپ سفر کر رہے ہوں تو کسی بھی مرحلے پر آپ کے لئے عذاب بن سکتا ہے، غلطی کی وجہ سے آپ جیل بھی جا سکتے ہیں اس لئے بہت احتیاط سے ہر چیز درست لکھیں۔ دعوت نامہ: اگر آپ کا کوئی عزیز، رشتہ دار، دوست متعلقہ ملک میں ہے اور وہ آپ کو سپانسرشپ بھیجتا ہے تو پھر آپ کے ویزا کے چانسز سو فیصد بڑھ جاتے ہیں اگر نہیں بھی ہے تو کسی ٹورسٹ کمپنی سے ٹورازم انوی ٹیشن منگوا لیں۔ اس کے وہ کچھ پیسے لیتے ہیں اور آپ کو مکمل پیکج بھیجتے ہیں جس میں رہائش کی بکنگ اور ایڈریس وغیرہ بھی شامل ہوتا ہے۔ انشورنس: ٹریول انشورنس کے بغیر کوئی بھی ملک ویزا جاری نہیں کرتا۔ یہ اس مقصد کے لئے ہوتی ہے کہ اگر دوران سفر خدانخواستہ آپ کے کاغذات گم ہو جاتے ہیں، آپ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے یا آپ بیمار ہو جاتے ہیں تو ٹریول انشورنس کی رقم سے آپ کے نقصان کا ازالہ ہوتا ہے اور بیماری کا علاج ہوتا ہے۔

 

ٹریول انشورنس اور میڈیکل انشورنس کا ایک پیکج بھی ہو سکتا ہے اور آپ علیحدہ علیحدہ بھی لے سکتے ہیں۔ ہوٹل بکنگ: اگر آپ کسی ٹورسٹ کمپنی سے رابطہ کئے بغیر سفر کر رہے ہیں تو بیرون ملک جانےسے پہلے رہائش کی بکنگ کروانا ضروری ہے۔ اس پر کوئی خاص خرچہ نہیں آتا ۔ کوشش کریں کہ ہوٹل کی بکنگ اپنی اوقات اور حیثیت کے مطابق کریں۔ زیادہ مہنگے ہوٹل کی بکنگ آپ کےویزا کی ریجیکشن کا سبب بن سکتی ہے۔ ویزا لگنے سے پہلے ہوٹل بکنگ کنفرم کبھی بھی نہ کریں کیونکہ اس سے آپ کا نقصان ہو سکتا ہے۔ بکنگ ڈاٹ کا پر بکنگ بہترین رہتی ہے۔ اس بکنگ کا سرٹیفکیٹ فائل میں لگائیں۔ فلائٹ بکنگ: فلائٹ بکنگ بھی ہوٹل بکنگ کی طرح ضروری ہے لیکن کنفرم نہ کریں بلکہ کسی بروکر کمپنی سے عارضی بکنگ لے لیں اور اس بکنگ کا سرٹیفکیٹ فائل میں لگائیں۔

 

انٹرویو: کچھ ایمبیسیاں پاسپورٹ پر ویزا لگا دیتی ہیں لیکن ایمبیسیاں خصوصا شینجن اور یورپی ایمبیسیاں انٹرویو کے بعد ویزا دیتی ہیں۔ انٹرویو کے لئے باقاعدہ وقت مقرر ہوتا ہے۔ اس مقررہ وقت پر ایمبیسی ہر حال میں پہنچیں۔ انٹرویو میں ویزا آفیسر آپ سے مختلف سوال پوچھتے ہیں جن کا آپ نے جواب دینا ہوتا ہے۔ آپ نے انٹرویو پراعتماد ہو کر دینا ہے ڈرنے یا کنفیوز ہونے کی صورت میں ویزا آفیسر آپ پر شک کرتا ہے کہ آپ کوئی جھوٹ بول رہے ہیں۔ وہ جو سوال بھی پوچھے اس کا جواب آپ کو سچا اور واضح دینا ہوتا ہے۔ جو ڈاکومنٹس آپ نے فائل میں لگائے ہیں ان کی مکمل تفصیلات آپ کو زبانی یاد ہونی چاہئے وہ کسی بھی ڈاکومنٹ کے بارے میں کوئی بھی سوال کر سکتا ہے مثلا ابھی آپ کے اکاؤنٹ میں کتنی رقم ہے، آپ نے پولیو کے قطرے کس تاریخ کو پئے تھے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد آپ نے جس جگہ جانا ہے وہاں کے بارے میں پوچھ سکتا ہے کہ آپ کیوں جانا چاہتے ہیں آپ نے جو کچھ کور لیٹر میں لکھا ہے اسی کے مطابق جواب دیں۔

 

اگر ویزاآفیسر آپ سے پاکستان کے بارے میں کوئی سوال پوچھے مثلا پاکستان میں بیروزگاری بہت ہے تو آپ نے کبھی بھی منفی جواب نہیں دینا۔ آپ نے کہنا ہے کہ کوئی خاص بیروزگاری نہیں ہے اتنی ہر جگہ ہوتی ہے، پاکستان دنیا کے دو سو ممالک میں اتنے نمبر پر ہے اس سے زیادہ بیروزگاری والے اتنے ممالک موجود ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آپ کو یہ واضح پتہ ہونا چاہئے کہ آپ اس ملک میں کیوں جا رہے ہیں۔ مثلا وہاں ایک ساحل ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت خوبصورت ہے، یا پھر فلاں فلاں تاریخی عمارتوں کے بارے میں پڑھا ہے میں انہیں دیکھنا چاہتا ہوں، کوئی میوزیم ہے اس کے بارے میں آپ بتا سکتے ہیں۔ اگر کوئی ذاتی سوال پوچھے تو حاجی نمازی بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ زیادہ تر یورپی ممالک کی سیاحت کا مرکز ہی ان کی عورتوں کی جسم فروشی ہے یعنی وہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے ممالک میں جا کر عیاشی کریں، اس لئے بے شک واضح کوئی بات نہ کریں لیکن اشارہ دے دیں کہ انجوائے بھی کرنا ہے۔ ویزا ریجیکشن: ویزا ریجکٹ ہونے کی صورت میں آرام سے اپنا کام کریں۔

 

ویزا اجرأ: اگر ویزا مل جائے تو پھر جانے کی تیاری کریں۔ کچھ چیزوں کی احتیاط کریں۔ اپنے ساتھ اس ملک کی موسمی ضرورت کے مطابق ہی کپڑے، جوتے، شیو کا سامان اور دیگرضروری سامان لے کر جائیں۔ غیر ضروری کپڑے جوتے وغیرہ لے جانے کی صورت میں آپ پر پاکستانی امیگریشن والے شک کرتے ہیں اور وہ آپ کو روک سکتے ہیں۔ اگر آپ سرکاری ملازم ہیں تو محکمے کی جانب سے این او سی آپ کے پاس ہونا ضروری ہے۔ این او سی نہ ہونے کی صورت میں کسی بھی صورت میں آپ کو جہاز میں نہیں بیٹھنے دیا جائے گا۔ اپنے ساتھ اپنے تعلیمی کاغذات کسی صورت میں بھی نہ لے کر جائیں، اگر آپ ایسا کریں گے تو امیگریشن والوں کو یہ شک ہو گا کہ یہ اپنے کاغذات ساتھ لے کر جا رہا ہے واپس نہیں آئے گا، آپ کو روکا جاسکتا ہے۔

 

ایک چیز اور یاد رکھیں کہ امیگریشن والوں سے کسی قسم کا جھوٹ نہ بولیں، ان کے پاس نادرا اور پاسپورٹ کا سارا ریکارڈ ہوتا ہے۔ آپ کے اکاؤنٹ میں بہت زیادہ رقم ہنا بھی خطرناک ہوتا ہے کیونکہ امیگریشن والے آپ کی مکمل تفصیلات چیک کرتے ہیں۔ بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کرنے کے اختیارات بھی ان کے پاس ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے اکاؤنٹ میں آپ کی حیثیت سے زیادہ رقم موجود ہے تو آپ کو نہ صرف روکا جاسکتا ہے بلکہ آپ کو گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے آپ کسی بھی ملک جانے کے لئے جب ایئرپورٹ پر جاتے ہیں توآپ کو دو سے چار گھنٹے پہلےایئرپورٹ میں داخل ہونا ہوتا ہے۔ وقت گزاری کے لئے آپ کہیں بیٹھتے ہیں، چائے پیتے ہیں ، اس دوران ایک بوڑھا بابا آپ کو ملتا ہے، آپ سے دوستی لگا لیتا ہے، پھر آپ سے پوچھتا ہے کہ سنائیں کدھر جا رہے ہیں، آپ اس کو اپنے آنے والے سفر کے بارے میں بتاتے ہیں، آپ یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ بابا بھی مسافر ہے، وہ آپ سے ویزا کے پراسیس کے بارے میں پوچھتا ہے کہ کیسے لگتا ہے، وہ ساری تفصیلات آپ سے پوچھتا ہے۔

 

آپ اسے مکمل تفصیلات بتائیں، یہ بابا کبھی بابا ہوتا ہے کبھی یہ پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان ہوتا ہے جو بیروزگاری کے ہاتھوں تنگ آ کر دبئی یا سعودی عرب جا رہا ہوتا ہے، کبھی کبھار یہ کینٹین کا ویٹر بھی ہو سکتا ہے۔ وہ جو بات بھی پوچھے سچی بتائیں، ویزا کا پراسیس پوچھے، کہاں جانا ہے، کب واپس آنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ کردار دراصل ایف آئی اے والا ہوتا ہے جو آپ کو چیک کر رہاہوتا ہے کہ کہیں اس کا ویزا جعلی تو نہیں ہے کیونکہ جعلی ویزا چیک کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں ہے اور کبھی کبھار کاؤنٹر سیٹنگ کی وجہ سے جعلی ویزے والے بچ نکلتے ہیں لیکن یہ بابا، یا ویٹر یا پھر بیروزگار نوجوان دراصل وہ نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں، یہ ایف آئی اے کے ملازم ہوتے ہیں جو جعلی ویزوں کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ ان سے کوئی جھوٹ نہ بولیں سارا پراسیس بتائیں کہ ویزا کیسے حاصل کیا ہے، کیسے اپلائی کیا ہے، انٹرویو میں کیا کچھ پوچھا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ نے ویزا کسی ایجنٹ سے لیا ہے تو پچانوے فیصد چانس ہوتا ہے کہ ویزا جعلی ہے۔

 

اگر آپ نے اس بابے کو بتا دیا کہ ویزا ایجنٹ سے لیا ہے تو پھر آپ یہ سمجھیں کہ آپ نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دی ہے۔ ویسے بھی ایجنٹ سے ویزالگوانا غیر قانونی ہے اور ایجنٹ کبھی اصل ویزا لگوا بھی نہیں سکتے اس لئے ایجنٹوں سے جتنا ہو سکے بچیں۔ اگر آپ اس گمنام شخص کو نظر انداز کریں گے یا کوئی بات بتانے سے قطرائیں گے تو آپ یہ سمجھ لیں کہ پھر آپ ایئرپورٹ سے واپس گھر بھی نہیں جا سکیں گے، کہیں کسی انوسٹی گیشن سنٹر پہنچیں گے۔ مجھے پوری امید ہے کہ یہ پوسٹ آپ کے لئے مفید ثابت ہو گی۔